اسلام آباد کی ایک عدالت نے ایک اہم فیصلے میں 12 سالہ بچی کو بلیک میل کرنے اور اس کی نازیبا تصاویر شیئر کرنے کے جرم میں ملوث دو ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے ملزمان پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ یہ فیصلہ سائبر کرائمز اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے اس حساس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم معاشرے میں عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران یہ ثابت ہوا کہ ملزمان نے ایک کمسن بچی کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے بلیک میل کیا اور اس کی نازیبا تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی دھمکی دی، جس سے بچی اور اس کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
عدالتی فیصلے سے ایسے عناصر کو سخت پیغام ملے گا جو سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے معصوم افراد، بالخصوص بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ متاثرہ بچی کے خاندان نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو عبرت کا نشان بنایا جا سکے گا اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔



