مظفر گڑھ کے علاقے سیت پور میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں ایک اتائی ڈاکٹر کی مبینہ غفلت کے باعث آٹھ سالہ بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، بچے کو معمولی بخار اور گلے میں تکلیف کی شکایت پر ایک مقامی اتائی ڈاکٹر کے پاس لایا گیا تھا۔ اتائی ڈاکٹر نے بچے کو مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگایا جس کے بعد اس کی حالت بگڑ گئی۔
بچے کے والدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انجیکشن لگنے کے فوری بعد ان کا بچہ بے ہوش ہو گیا اور اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ والدین نے فوری طور پر بچے کو قریبی ہسپتال منتقل کیا، تاہم راستے میں ہی وہ دم توڑ گیا۔ والدین نے اتائی ڈاکٹر پر اپنے بچے کی موت کا الزام عائد کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتائی ڈاکٹر کی لاپرواہی نے ان کے گھر کا چراغ گل کر دیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اتائی ڈاکٹر کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ صحت کے حکام نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے علاقے میں اتائی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان میں اتائی ڈاکٹروں کی وجہ سے ہونے والی اموات ایک سنگین مسئلہ ہے، اور اس طرح کے واقعات صحت کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔


