کراچی: ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ گندم کی قیمتوں میں حالیہ تیزی ہے۔ اس اضافے کے بعد شہر بھر کی مارکیٹوں میں صارفین کو آٹا خریدنے کے لیے اب نمایاں طور پر زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق، گندم کی قیمتوں میں اضافے کے بعد فلور ملز کے لیے پرانے نرخوں پر آٹا فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔ اسی بنا پر انہوں نے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا براہ راست بوجھ صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کو شدید متاثر کیا ہے، کیونکہ آٹا روزمرہ کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ ان کے ماہانہ بجٹ پر بھاری پڑ رہا ہے۔
شہری حلقوں اور صارفین کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو مہنگائی کا یہ سلسلہ دیگر اشیائے ضروریہ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جس سے عوام کی قوت خرید مزید کمزور ہو جائے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سپلائی چین کو بہتر بنائے اور ذخیرہ اندوزی کو روکے تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔





