مظفرآباد: کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کو ان کے ایک ساتھی سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں گرفتاری کے بعد کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے اس گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں عمل میں آئی ہیں جب آزاد کشمیر میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور آٹے کی قلت کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ کمیٹی نے حکومت کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے ایک ڈیڈ لائن دی تھی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کی دھمکی دی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کی گئی ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دیگر رہنماؤں نے شوکت نواز میر کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور اسے حکومتی جبر قرار دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ گرفتاریاں ان کی تحریک کو کمزور نہیں کر سکتیں اور وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ کمیٹی نے مزید گرفتاریاں نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔






