کوئٹہ – گوادر میں حالیہ واقعے کے بعد، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے پروپیگنڈا نیٹ ورکس کی جانب سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس میں اس واقعے کو پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف ایک بڑی آپریشنل کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ انتہائی کامیاب رہا اور اس نے سیکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا۔ تاہم، حقائق اس دعوے کے برعکس ہیں۔
حقیقت میں، جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ ایک تعمیراتی کمپنی کا کیمپ تھا جو حملے سے قبل ہی خالی کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، سڑک کے کنارے کھڑے کئی ٹرکوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے شہری املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ ٹرک عام شہریوں کی ملکیت تھے اور ان کا تعلق کسی فوجی یا سیکیورٹی آپریشن سے نہیں تھا۔
اس واقعے کے حقائق بی ایل اے کے پروپیگنڈا کو بے نقاب کرتے ہیں جو اپنی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ حملہ نہ صرف سیکیورٹی فورسز کے خلاف کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہا بلکہ اس کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچا، جو اس تنظیم کے دعووں کی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ یہ صورتحال بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب کرنے اور مقامی آبادی کو مشکلات سے دوچار کرنے کا باعث بن رہی ہے۔




