لاہور: شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سٹی ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) سید عبدالرحیم شیرازی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ لاہور میں 21 سنگین ٹریفک خلاف ورزیوں میں ملوث کار ڈرائیورز اور بائیکرز کو اب معمول کے چالان کے بجائے فوجداری مقدمات (ایف آئی آر) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ اقدام عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے جرائم کے خلاف سخت نفاذ کی نشاندہی کرتا ہے۔
سی ٹی او شیرازی کے مطابق، ان سخت اقدامات کا مقصد سڑکوں پر نظم و ضبط کو یقینی بنانا اور حادثات کی روک تھام کرنا ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں غلط سمت میں ڈرائیونگ (ون وے کی خلاف ورزی)، غیر مجاز سبز نمبر پلیٹس کا استعمال، اور پولیس طرز کی لائٹس، سائرن یا ایمبلمز کا غیر قانونی استعمال شامل ہے۔ یہ وہ خلاف ورزیاں ہیں جو نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ دیگر شہریوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔
ان سنگین خلاف ورزیوں پر ایف آئی آر کے اندراج کا مطلب یہ ہے کہ اب خلاف ورزی کرنے والوں کو صرف جرمانہ ادا کرنے کی بجائے قانونی کارروائی اور عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ان کا فوجداری ریکارڈ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ سی ٹی او نے تمام ڈرائیورز اور بائیکرز پر زور دیا ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کریں تاکہ نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچایا جا سکے۔ یہ نئی پالیسی لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک کے بہتر انتظام اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔





