حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات، جن کا بنیادی محور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے، ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ یہ مذاکرات، جن میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار بھی نمایاں رہا ہے، ملک کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی قیادت کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ دہشت گردی بلاشبہ ایک اہم مسئلہ ہے جس سے نمٹنا قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، اور اس پر سیاسی جماعتوں کا ایک میز پر آنا ایک مثبت علامت ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت، کم از کم ایک اہم مسئلے پر، مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم، یہ مذاکرات محض دہشت گردی کے مسئلے تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ ملک کو اس وقت معاشی بحران، شدید سیاسی پولرائزیشن، آئینی بالادستی کے چیلنجز اور قانون کی حکمرانی جیسے کئی دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ان تمام قومی مسائل پر ایک وسیع تر اور جامع مکالمہ شروع کریں تاکہ طویل المدتی حل تلاش کیے جا سکیں۔ ایک ‘میثاقِ معیشت’ اور ‘میثاقِ جمہوریت’ کی طرز پر ایک قومی ایجنڈا ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جو ملک کو موجودہ دلدل سے نکال سکے۔ صرف دہشت گردی پر بات چیت کرنا ایک جزوی حل ہے، جبکہ پاکستان کو ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جو تمام بنیادی مسائل کا احاطہ کرے۔
یہ مذاکرات صرف ایک وقتی سیاسی چال یا فوٹو سیشن نہیں ہونے چاہئیں۔ دونوں فریقین کو حقیقی معنوں میں ملک کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے، اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر، ایک مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہونا ہوگا۔ اگر یہ بات چیت صرف دہشت گردی پر مرکوز رہتی ہے اور دیگر بنیادی قومی مسائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تو ملک مزید گہرے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ امید ہے کہ یہ ابتدائی قدم ایک وسیع تر، نتیجہ خیز اور پائیدار مکالمے کی بنیاد بنے گا جو پاکستان کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے گا۔ قومی قیادت کو یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے اور اسے ایک حقیقی قومی مفاہمت کی جانب لے جانا چاہیے۔





