چین کے سینٹر فار گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور چین مل کر سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ ان کا یہ بیان خطے میں پانی کے تنازعات اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر گاؤ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات اور باہمی اعتماد اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں طے پانے والا ایک تاریخی معاہدہ ہے جس کے تحت دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کی ضمانت عالمی بینک نے دی تھی اور یہ دونوں ممالک کے لیے پانی کی فراہمی اور زرعی ضروریات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر وکٹر گاؤ کے مطابق، چین کی شمولیت اس معاہدے کی پاسداری اور اس پر مکمل عمل درآمد کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کی جانب سے بھارت پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وکٹر گاؤ کا یہ بیان چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک تعلقات کا عکاس ہے۔ چین، جو خطے میں ایک بڑی طاقت ہے، پاکستان کے ساتھ اقتصادی راہداری (CPEC) سمیت کئی بڑے منصوبوں میں شراکت دار ہے۔ سندھ طاس معاہدے میں چین کی ممکنہ شمولیت نہ صرف پاکستان کے آبی تحفظ کو تقویت دے سکتی ہے بلکہ یہ خطے میں پانی کے انتظام کے حوالے سے ایک نیا ماڈل بھی پیش کر سکتی ہے۔ یہ تجویز مستقبل میں علاقائی استحکام اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔





