متحدہ عرب امارات نے پاسپورٹ خدمات کی فیسوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق تمام ممالک کے شہریوں پر ہوگا۔ یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات میں مقیم لاکھوں بھارتی تارکین وطن کے لیے ایک نئی مالی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ بھارتی حکام نے اس اضافے کی تصدیق کی ہے، تاہم اس کے بعد بھارتی سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس اضافے کو وزیر اعظم نریندر مودی کی ‘پڑوسی پہلے’ اور ‘عالمی دوست’ کی سفارتکاری کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مضبوط تعلقات کے دعوؤں کے باوجود، بھارتی حکومت اپنے شہریوں کے لیے اس مالی بوجھ کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں تقریباً 3.5 ملین بھارتی شہری مقیم ہیں جو بھارت کو سالانہ اربوں ڈالر کی ترسیلات زر بھیجتے ہیں، اور یہ اضافہ ان کی بچتوں پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔
بھارتی تارکین وطن میں اس فیصلے پر گہری تشویش اور ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی چیلنجز کے پیش نظر یہ اضافی فیس ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔ بھارتی سفارت خانے کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم توقع ہے کہ بھارتی حکومت اپنے شہریوں پر پڑنے والے اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے حکام سے رابطہ کرے گی۔







