اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف 3 جولائی کو ایک اہم دورے پر ایران روانہ ہوں گے، جہاں وہ حال ہی میں ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی تدفین کی سرکاری تقریب میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ گہرے تعلقات اور مشکل کی اس گھڑی میں اظہار یکجہتی کا مظہر ہے۔ وزیراعظم کا یہ دورہ علاقائی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ایران میں تعزیتی تقریبات میں شرکت کے بعد، وزیراعظم شہباز شریف ترکی کے لیے روانہ ہوں گے۔ ترکی میں وہ اعلیٰ ترک قیادت سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان موجودہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی طور پر مضبوط تعلقات رہے ہیں اور یہ دورہ ان تعلقات کو نئی جہت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف اپنے اس اہم علاقائی دورے کے بعد 5 جولائی کو وطن واپس اسلام آباد پہنچیں گے۔ ان کے دورے کا مقصد نہ صرف ایران کے ساتھ دکھ بانٹنا ہے بلکہ ترکی کے ساتھ بھی اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ یہ دورہ پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا اور اہم اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔








