امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار قطر کے دارالحکومت دوحہ روانہ ہو گئے ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان براہ راست ملاقات کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ یہ پیش رفت 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کو بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس سے امریکہ 2018 میں یکطرفہ طور پر دستبردار ہو گیا تھا۔
مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار رہی ہے، اور دونوں فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس باہمی عدم اعتماد نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ فریقین کے درمیان بالواسطہ بات چیت کے ذریعے ہی معاملات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوحہ میں ہونے والے یہ مذاکرات جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری ان کوششوں کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ اس معاہدے کی بحالی خطے میں استحکام اور جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں کسی بڑی پیش رفت کی توقعات کم دکھائی دیتی ہیں۔








