سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد، نیویارک کے رکن اسمبلی رابرٹ سملن نے ایوان نمائندگان کی نشست کے لیے کنزرویٹو پارٹی کے پلیٹ فارم پر الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رابرٹ سملن نے حال ہی میں ریپبلکن پرائمری میں شکست کھائی تھی اور وہ نمائندہ ایلیس اسٹیفانک کی جگہ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں ریپبلکن پارٹی کے اندر اتحاد کو برقرار رکھنے اور ممکنہ طور پر ووٹوں کی تقسیم کو روکنے کے لیے اپنی سیاسی طاقت کا استعمال کیا۔ ٹرمپ کی مداخلت کو ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کے انتخاب پر ان کے مسلسل اثر و رسوخ کی ایک اور مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں وہ اپنے پسندیدہ امیدواروں کی حمایت میں کھل کر سامنے آتے ہیں۔
رابرٹ سملن کا کنزرویٹو پارٹی کی ٹکٹ پر دستبردار ہونا نیویارک کی اس اہم ہاؤس ریس میں ریپبلکن پارٹی کی حکمت عملی کے لیے اہم نتائج کا حامل ہے۔ اس فیصلے سے پارٹی کے لیے ایک متحد محاذ پیش کرنا آسان ہو جائے گا اور یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ ان کے ووٹ تقسیم نہ ہوں، جس سے ان کے منتخب امیدوار کے جیتنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

