تہران: ایران میں فروری کے مہینے میں قتل کیے جانے والے ایک آیت اللہ کے لیے عوامی سوگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان کی میت کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ (Grand Mosalla) میں جمعہ سے عوام کے دیدار کے لیے رکھا جائے گا، جس کے بعد کئی روز تک تدفینی تقریبات جاری رہیں گی۔ یہ تقریبات ملک بھر میں سوگواران کو مرحوم آیت اللہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کریں گی۔
اس آیت اللہ کے قتل نے ملک بھر میں گہرے صدمے اور سوگ کی فضا پیدا کر دی تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں کسی بھی آیت اللہ کا قتل ایک انتہائی سنگین واقعہ سمجھا جاتا ہے، اور اس واقعے کے بعد سے ملک کی سیکیورٹی صورتحال اور اندرونی معاملات پر بھی بحث جاری ہے۔ حکام نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا عزم ظاہر کیا ہے اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔
توقع ہے کہ ان تدفینی تقریبات میں ہزاروں کی تعداد میں سوگواران، عقیدت مند اور حکومتی شخصیات شرکت کریں گی۔ گرینڈ مصلیٰ میں میت کو رکھے جانے کے بعد، مختلف شہروں میں بھی دعائیہ اجتماعات اور جلوس نکالے جائیں گے تاکہ مرحوم آیت اللہ کو یاد کیا جا سکے۔ ان تقریبات کا مقصد نہ صرف مرحوم کی خدمات کو سراہنا ہے بلکہ ملک میں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام بھی دینا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔

