دو روزہ وقفے کے بعد عالمی اور مقامی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 11 ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 4,174 ڈالر فی اونس پر آ گئی ہے۔ اس کمی نے سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
سونے کی قیمتوں میں یہ گراوٹ عالمی اقتصادی اشاریوں اور امریکی ڈالر کی قدر میں ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے۔ عام طور پر، جب امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے کیونکہ ڈالر میں قیمت ادا کرنے والے خریداروں کے لیے سونا مہنگا ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مرکزی بینکوں کی آئندہ پالیسیاں بھی سونے کی قیمتوں کے رجحان پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
مقامی صرافہ بازاروں میں بھی عالمی رجحان کے مطابق سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ صورتحال ان صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے جو سونے کی خریداری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ آئندہ دنوں میں عالمی معاشی رپورٹس اور جیو پولیٹیکل صورتحال پر گہری نظر رکھی جائے گی جو سونے کی قیمتوں کے مستقبل کا تعین کریں گی۔

