لندن/نئی دہلی – انسٹاگرام پر موجود کچھ مواد ایک پریشان کن آن لائن نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ایک حالیہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس پلیٹ فارم پر چلائے جانے والے ادا شدہ اشتہارات مبینہ طور پر صارفین کو ایسے ٹیلی گرام چینلز کی طرف لے جا رہے تھے جہاں بچوں سے متعلق جنسی زیادتی کا مواد (CSAM) محض ایک ڈالر جیسی کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا تھا۔
اس سنگین انکشاف نے انسٹاگرام کے اشتہارات کی نگرانی کے نظام کی تاثیر اور غیر قانونی مواد کے خلاف میٹا (Meta) کے حفاظتی اقدامات پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال آن لائن پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ کے حوالے سے موجود خامیوں اور ان کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے درکار سخت اقدامات کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔
تحقیقاتی اداروں کی جانب سے کی گئی یہ تفصیلی چھان بین اس گھناؤنے نیٹ ورک کی گہرائیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس سے آن لائن مواد کی جانچ پڑتال، اس کے غلط استعمال کو روکنے اور بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رکھنے کے لیے مزید سخت قوانین اور جدید ٹیکنالوجی کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔



