ایران کے سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات کو ایک ‘انتہائی سیاسی لمحہ’ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ تقریبات آنے والے دنوں میں ملک بھر میں منعقد کی جائیں گی اور ان کی سیاسی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق، آئندہ چند روز میں ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں ہونے والی ان تقریبات میں تقریباً 20 ملین (دو کروڑ) افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اجتماع اس واقعے کی علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے، اور یہ مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط سیاسی پیغام بھی دے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وسیع پیمانے پر منعقد ہونے والی آخری رسومات ایران کے اندرونی اتحاد اور علاقائی اثر و رسوخ کا مظاہرہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان تقریبات کے انتظامات ایک بڑا چیلنج ہیں، جس کے لیے سکیورٹی اور لاجسٹکس کے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اتنی بڑی تعداد میں شرکاء کو سنبھالا جا سکے۔





