یوکرین نے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک بڑے تیل ٹرمینل پر حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ روس-یوکرین جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہے، جہاں یوکرین روسی فوجی اور اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی اپنی حکمت عملی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ روس کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور ایک اہم بندرگاہ ہے، جہاں سے تیل اور گیس کی برآمدات ہوتی ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشانہ بنائی گئی تنصیبات کلیدی ڈھانچہ ہیں جو روس کی جنگ کے لیے آمدنی پیدا کرتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے اہداف کو نشانہ بنانا روس کی جنگی صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور اس کی جارحیت کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ حملہ روس کے اندر گہرائی میں یوکرین کے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کی سیریز کا حصہ ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے حملے روس کی معیشت پر دباؤ ڈالنے اور اس کی جنگی کوششوں کو متاثر کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ روس کی جانب سے اس حملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں روس نے یوکرین کے ایسے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔ اس واقعے سے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔





