سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں سزائے موت پانے والے دو ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کیا جا رہا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، استغاثہ ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا جو ملزمان کو اس ہولناک واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوں۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ پیش کیے گئے ثبوت ناکافی اور غیر تسلی بخش تھے، جس کی بنیاد پر کسی کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔ یہ فیصلہ اس کیس میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے جو کئی سالوں سے زیر سماعت تھا۔
سانحہ بلدیہ فیکٹری پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں سے ایک ہے، جس میں 2012 میں کراچی کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے ملک بھر میں فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات کی خامیوں کو اجاگر کیا تھا۔ سپریم کورٹ کا یہ تفصیلی فیصلہ انصاف کے تقاضوں اور قانونی عمل کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔

