اسلام آباد: پاکستانی فوج کے کور کمانڈرز نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک اہم شرط عائد کی ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے زیر تسلط علاقوں سے بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر حمایت یافتہ پراکسیوں کی سرگرمیوں کو روکے بغیر خطے میں دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں۔ یہ بیان پاکستان کے سیکیورٹی خدشات اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اس کے موقف کی عکاسی کرتا ہے۔
کانفرنس میں شریک اعلیٰ فوجی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، خاص طور پر ان عناصر کے خلاف جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بھارت بعض عسکریت پسند گروہوں کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کرتا ہے جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ کور کمانڈرز نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر ان پراکسیوں کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت دی گئی تو یہ علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
اس بیان کو افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے تمام فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا اور کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے پراکسیوں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کور کمانڈرز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
