اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پیر کو بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کے واقعے کو پاکستان کی تاریخ کے انتہائی المناک، دردناک اور دل دہلا دینے والے سانحات میں سے ایک قرار دیا ہے، جس میں 260 مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور تقریباً 60 دیگر جھلس کر زخمی ہوئے تھے۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ‘متاثرین عام مزدور تھے جو اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے فیکٹری میں داخل ہوئے تھے، لیکن ان میں سے بہت سے کبھی زندہ باہر نہیں آ سکے۔’
عدالتی فیصلے میں وضاحت کی گئی کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 10 جون کو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے دو کارکنوں، عبدالرحمن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کی 2012 میں کراچی کے بلدیہ علاقے میں گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے سلسلے میں سزاؤں کو کیوں کالعدم قرار دیا تھا۔ جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل بینچ نے انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے قتل، بھتہ خوری، آتشزدگی اور دہشت گردی کے الزامات پر سنائی گئی سزائے موت کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلے میں شریک ملزمان محمد عبدالرؤف صدیقی، عمر حسن، ڈاکٹر عبدالستار خان اور اقبال ادیب خانم کی بریت کو بھی برقرار رکھا گیا۔
جسٹس شہزاد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ‘زندگی کے حق سے ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی زندگی کا تحفظ کرے، حفاظتی ذمہ داریوں کو نافذ کرے اور ایک فوری، سائنسی، غیر جانبدارانہ اور مؤثر تحقیقات کرے تاکہ سانحے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے اور اصل ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔’ تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ استغاثہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں ایم کیو ایم کارکنوں کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
