روس نے پاکستانی صوبہ پنجاب سے آلو کی درآمد پر عائد پابندی ہٹا دی ہے، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ایک بڑی تجارتی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور پاکستانی زرعی شعبے کے لیے خوش آئند خبر ہے۔
اس اہم پیش رفت کے حصول میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (PHDEC) نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان اداروں نے پاکستانی برآمد کنندگان کی مدد کے لیے متعدد ورچوئل بزنس ٹو بزنس (B2B) میٹنگز کا اہتمام کیا، جس کا مقصد روسی منڈی تک رسائی کو آسان بنانا اور درپیش رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں روسی حکام نے پاکستانی آلو کی درآمد پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس پابندی کے خاتمے سے پنجاب کے آلو کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، اور ملک کی زرعی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان اور روس کے درمیان زرعی تجارت کو فروغ دینے کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا اور مستقبل میں دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات کے لیے بھی راہیں کھول سکتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی ایک روشن مثال ہے اور باہمی تجارت کو مزید وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔



