اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 2 فروری 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس چھوٹ کے مجوزہ خاتمے کو مؤخر کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے اس مجوزہ اقدام کو صوبے کے لیے شدید تشویش کا باعث قرار دیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیراعظم کو بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کے انضمام کا بوجھ خیبرپختونخوا اکیلے برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی حکومت نے ان اضلاع کی ترقی اور بحالی کے حوالے سے اپنے وعدے ابھی تک پورے نہیں کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ ان علاقوں کی پہلے سے ہی کمزور معیشت اور عوام پر مزید دباؤ ڈالے گا، جو امن و امان کی صورتحال اور ترقیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ان علاقوں کی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے ٹیکس چھوٹ کا جاری رہنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے پر ذاتی توجہ دیں اور صوبے کے خدشات کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان بہتر ہم آہنگی سے ہی ان علاقوں میں پائیدار ترقی اور خوشحالی ممکن ہے۔


