چین کے ‘جوتے سازی کے دارالحکومت’ میں فیکٹری آتشزدگی سے کم از کم 28 ہلاک

چین کے ایک صنعتی شہر میں، جسے ملک کا ‘جوتے سازی کا دارالحکومت’ کہا جاتا ہے، ایک فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق، یہ واقعہ ایک جوتے بنانے والی فیکٹری میں پیش آیا جہاں آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی۔ وائرل ہونے والی فوٹیج میں عمارت سے بلند ہوتے شعلے اور آسمان کی طرف اٹھتا گہرا کالا دھواں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو آگ کی شدت کو ظاہر کر رہا تھا۔

مقامی وقت کے مطابق، آگ اتوار کی شام دیر گئے بھڑکی اور تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔ فائر بریگیڈ کے درجنوں اہلکار اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور کئی گھنٹوں تک آگ بجھانے اور پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری رہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران کئی افراد کو بحفاظت نکالا گیا، تاہم آگ کی شدت اور دھوئیں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ حکام نے بتایا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ یا حفاظتی انتظامات میں خامی کو ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس المناک واقعے نے چین کے صنعتی شعبے میں حفاظتی اقدامات پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی حکومت نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر فیکٹری کے مزدور شامل تھے جو اپنی شفٹ پر موجود تھے۔ حکام نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے صنعتی یونٹس میں حفاظتی پروٹوکولز کا جائزہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  • Related Posts

    یورپ بھر میں مہنگائی اور حکومتی کٹوتیوں کے خلاف پرتشدد مظاہرے

    یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی میں اضافے اور عوامی خدمات میں کٹوتیوں کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں نے ایک بار پھر پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے۔ فرانس، اٹلی…

    سابق امریکی صدر اوباما نے ٹرمپ کی ‘ظالمانہ پالیسیوں اور بدعنوانی’ پر شدید تنقید کی

    اوہائیو: سابق امریکی صدر براک اوباما نے اوہائیو میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔