دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق بحث و مباحثے کو قانون سازی میں بدل رہی ہیں، لیکن پاکستان میں پارلیمانی اقدامات، عدالتی مداخلت اور بڑھتے ہوئے عوامی خدشات کے باوجود ابھی تک کوئی مخصوص قانونی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ یہ صورتحال ملک میں بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے ایک اہم سوال کھڑا کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اس عالمی رجحان سے پیچھے رہ گیا ہے۔
اس عالمی تحریک کا آغاز آسٹریلیا نے کیا، جو سوشل میڈیا کے لیے ملک گیر کم از کم عمر متعارف کرانے والا پہلا ملک بن گیا۔ آسٹریلیا کے “آن لائن سیفٹی امینڈمنٹ ایکٹ” نے بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کیا، جس کے بعد دیگر ممالک بھی اسی طرح کے قوانین بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ اس اقدام نے دنیا بھر میں اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو انٹرنیٹ کی دنیا میں محفوظ رکھنا کتنا ضروری ہے اور یہ کہ حکومتوں کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان میں، اگرچہ اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث ہوئی ہے اور عدلیہ نے بھی اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم عملی طور پر کوئی ٹھوس قانون سازی نہیں ہو سکی ہے۔ عوامی سطح پر بھی والدین اور تعلیمی اداروں کی جانب سے بچوں کے سوشل میڈیا کے بے لگام استعمال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جو ان کی ذہنی صحت اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ایسے میں، جب دنیا بچوں کے ڈیجیٹل حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، پاکستان کو بھی اس اہم معاملے پر جلد از جلد فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ اس کے بچے بھی محفوظ ڈیجیٹل ماحول سے مستفید ہو سکیں۔


