امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹوں کی فائرنگ سے ایک میکسیکن شہری کی ہلاکت کے بعد حکام نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ مقتول ان کا مطلوبہ ہدف نہیں تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایجنٹوں نے ایک مسافر کو کسی مشتبہ شخص سے مشابہت رکھنے کے شبہ میں روکا۔
حکام کے مطابق، ICE ایجنٹوں کو یہ گمان ہوا کہ گاڑی میں سوار ایک مسافر ان کے مطلوبہ مشتبہ شخص سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس شبہ کی بنیاد پر ایجنٹوں نے اسے روکنے کی کوشش کی، لیکن یہ سامنا تیزی سے بگڑ گیا اور صورتحال نے ایک جان لیوا فائرنگ کا رخ اختیار کر لیا، جس کے نتیجے میں میکسیکن شہری موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ صورتحال اتنی تیزی سے کیوں بگڑی اور فائرنگ کی نوبت کیوں آئی۔ یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں غلط شناخت اور طاقت کے استعمال کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امیگریشن سے متعلق پالیسیاں پہلے ہی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔



