ٹرمپ انتظامیہ کا انتخابی عمل پر کنٹرول کی کوشش، آزاد انتخابی گروپ کے ارکان برطرف

ٹرمپ انتظامیہ نے آزاد انتخابی امدادی کمیشن (Election Assistance Commission) کے ارکان کو برطرف کر دیا ہے، جس کے بعد ایک اہم استعفے کے ساتھ یہ ادارہ عملی طور پر غیر فعال ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کی جانب سے وسط مدتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے طریقہ کار پر اپنا کنٹرول مسلط کرنے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

الیکشن اسسٹنس کمیشن (EAC) ایک آزاد وفاقی ادارہ ہے جسے 2002 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ انتخابی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کا بنیادی کام انتخابی عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے رہنما اصول وضع کرنا، انتخابی مشینوں کی تصدیق کرنا اور ریاستوں کو انتخابی عمل میں مدد فراہم کرنا ہے۔ ارکان کی برطرفی اور ایک اہم استعفے نے اس کمیشن کو عملی طور پر مفلوج کر دیا ہے، جس سے اس کی افادیت ختم ہو گئی ہے۔

صدر ٹرمپ طویل عرصے سے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، اور ان اقدامات کو ان کی جانب سے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور ایسے میں انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے ایک اہم ادارے کو غیر فعال کرنا جمہوری عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انتخابی نظام پر سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کی ایک واضح کوشش ہے۔

  • Related Posts

    پیرس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، آتش بازی اور آنسو گیس کا استعمال

    پیرس: فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مظاہرین اور فسادات کنٹرول کرنے والی پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، جہاں دن بھر جاری رہنے والے پرامن احتجاج نے رات گئے پرتشدد…

    اسرائیلی فوج نے الخلیل میں فلسطینیوں کے گھر مسمار کر دیے، متعدد خاندان بے گھر

    اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل (Hebron) میں فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی خاندان بے گھر ہو گئے…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔