وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت نافذ العمل ہو گئی ہے۔ اسی طرح، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جو صارفین پر اضافی بوجھ ڈالے گا۔ یہ نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث ناگزیر ہو گیا تھا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس کی مد میں محصولات کو برقرار رکھا جا سکے اور ملک کی معاشی صورتحال کو مستحکم کیا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس اضافے سے عام شہریوں پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے افراط زر کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پہلے ہی سے مشکلات کا شکار عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ حکومت کو اس فیصلے کے عوامی ردعمل اور معیشت پر پڑنے والے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔






