کراچی میں ایک منظم گروہ سرگرم ہو گیا ہے جو دانستہ طور پر معمولی جھگڑوں کی آڑ میں شہریوں کو لوٹ رہا ہے۔ یہ گروہ خاص طور پر گاڑیوں میں سفر کرنے والے افراد کو نشانہ بناتا ہے اور ایک نئی اور خطرناک واردات کا طریقہ اپنا رہا ہے جس نے شہر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
واردات کا طریقہ کار انتہائی سادہ مگر مؤثر ہے۔ گروہ کے ارکان پہلے کسی گاڑی کے قریب جان بوجھ کر کوئی معمولی جھگڑا یا تصادم پیدا کرتے ہیں۔ اس جھگڑے کا بنیادی مقصد صرف گاڑی کو رکوانا اور ایک مخصوص صورتحال پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ ڈرائیور کی توجہ اصل مقصد سے ہٹائی جا سکے۔ جیسے ہی ڈرائیور یا گاڑی میں موجود افراد جھگڑے کو نمٹانے یا صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، گروہ کے دیگر ارکان موقع کا فائدہ اٹھا کر لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں اور قیمتی اشیاء چھین کر فرار ہو جاتے ہیں۔
شہر میں اس نئے طرز کی وارداتوں میں اضافے نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پولیس حکام کو اس گروہ کے خلاف فوری کارروائی کرنے اور شہریوں کو اس نئی حکمت عملی سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سڑک پر ایسے غیر معمولی جھگڑوں کی صورت میں محتاط رہیں، گاڑی سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں۔ اس گروہ کی سرگرمیوں پر قابو پانا شہر میں امن و امان کی صورتحال کے لیے انتہائی اہم ہے۔



