یمن میں ایک بار پھر کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے، جہاں میدان جنگ اور سیاسی محاذ دونوں پر حالات تشویشناک صورتحال اختیار کر رہے ہیں۔ کئی سالوں سے جاری اس تنازع میں فریقین کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات اور مسلح جھڑپوں کے خدشات نے عالمی برادری کو پریشان کر دیا ہے۔
طویل عرصے سے جاری اس تنازع میں ایک عارضی جنگ بندی یا امن کی کوششیں جاری تھیں، تاہم حالیہ پیش رفت نے ان کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یمن میں جنگ کا شعلہ ایک بار پھر پوری شدت سے بھڑک اٹھے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے انسانی اور علاقائی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ لاکھوں افراد پہلے ہی اس تنازع کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں اور خوراک و ادویات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی طاقتوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔
