کوئٹہ کے علاقے زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا احتجاجی دھرنا پانچویں روز بھی جاری ہے۔ مظاہرین نے اپنے پیاروں کی میتوں کے ہمراہ زیارت روڈ پر دھرنا دے رکھا ہے جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ان کے پیاروں کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
دھرنے میں شریک لواحقین نے حکومتی بے حسی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ روز گزرنے کے باوجود حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی کوئی اعلیٰ عہدیدار ان سے مذاکرات کے لیے آیا ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ شہید اہلکاروں کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے، ان کے بچوں کی تعلیم اور روزگار کا بندوبست کیا جائے، اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے۔
دھرنے کے باعث زیارت اور گردونواح کے علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اپنا احتجاج مزید وسیع کریں گے اور صوبائی دارالحکومت کی جانب مارچ بھی کر سکتے ہیں۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی لواحقین کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


