گلگت بلتستان، جو دنیا کے چند دلکش ترین پہاڑی مناظر، بلند و بالا چوٹیوں، گہری وادیوں اور شفاف جھیلوں کا گھر ہے، ہر سال مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ ہنزہ کی سرسبز و شاداب وادیوں سے لے کر اسکردو کی پرسکون جھیلوں اور گلگت کے قدیم ثقافتی ورثے تک، یہ خطہ پاکستان کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی سیاحتی منزلوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ اس کی قدرتی خوبصورتی اور منفرد ثقافت اسے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام بناتی ہے۔
تاہم، سیاحت کی یہ بڑھتی ہوئی مقبولیت اپنے ساتھ ایک سنگین ماحولیاتی چیلنج بھی لائی ہے۔ سیاحوں کی آمد میں اضافے کے ساتھ ساتھ، علاقے میں پلاسٹک کے کچرے کی مقدار میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پلاسٹک کی بوتلیں، تھیلیاں اور دیگر ناقابلِ تلف اشیاء ان خوبصورت وادیوں، جھیلوں اور پہاڑی راستوں پر بکھری نظر آتی ہیں، جو نہ صرف قدرتی حسن کو داغدار کر رہی ہیں بلکہ مقامی ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہیں۔
اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے گلگت بلتستان کی مقامی حکومت، ماحولیاتی تنظیمیں اور مقامی آبادی جدوجہد کر رہی ہے۔ پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے، کچرے کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانے اور سیاحوں میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس جدوجہد میں کامیابی کے لیے حکومتی پالیسیوں، مقامی برادری کی فعال شرکت اور سیاحوں کی ذمہ دارانہ رویے کا امتزاج ناگزیر ہے۔ گلگت بلتستان کے قدرتی حسن کو محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکیں۔


