یوکرین میں روس کے خلاف جاری جنگ ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ زمینی محاذ پر جاری لڑائی میں تعطل کے بعد، اب جنگ کا رخ آسمانوں کی طرف مڑ گیا ہے جہاں فضائی برتری کے لیے شدید مقابلہ جاری ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق اپنی حکمت عملیوں کو تبدیل کر رہے ہیں تاکہ جنگ میں تعطل کو توڑا جا سکے اور فیصلہ کن برتری حاصل کی جا سکے۔
یہ نیا مرحلہ بنیادی طور پر میزائلوں اور فضائی دفاعی نظاموں کی جنگ بن چکا ہے۔ دونوں اطراف سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ دشمن کی فوجی تنصیبات، سپلائی لائنز، اور اہم ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اس کے جواب میں، یوکرین اور روس دونوں ہی جدید ترین فضائی دفاعی نظام (انٹرسیپٹر) تعینات کر رہے ہیں تاکہ آنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کو روکا جا سکے۔ اس فضائی جنگ کا مقصد نہ صرف دشمن کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے بلکہ زمینی افواج کی پیش قدمی کے لیے راہ ہموار کرنا بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی برتری حاصل کرنا اس جنگ میں فتح کی کلید ثابت ہو سکتا ہے۔ جو فریق فضائی محاذ پر غالب آئے گا، اسے زمینی کارروائیوں میں بھی فیصلہ کن فائدہ حاصل ہو گا۔ تاہم، اس نئے مرحلے میں شہری آبادیوں کو بھی فضائی حملوں سے شدید خطرات لاحق ہیں، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ یہ جنگ عالمی امن اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

