بلوچستان میں جاری آپریشن شعبان کے دوران مزید چار دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ہے۔ سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن نے منگل کو سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
یہ وسیع پیمانے پر جاری آپریشن زیارت میں منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر ایک پولیس چوکی پر ہونے والے مہلک حملے کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔ اس حملے کے دوران مسلح حملہ آوروں نے 27 پولیس افسران کو اغوا کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس مشترکہ کارروائی میں پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس اور انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) کے دستے حصہ لے رہے ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جاری فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مزید چار ‘خوارج’ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں، جس سے آپریشن شعبان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ہے۔ پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 121 ‘خوارج’ دہشت گردوں کو ختم کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یہ آپریشن “آخری دہشت گرد کے خاتمے تک” جاری رہے گا۔
وزارت داخلہ کے ‘ایکس’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا گیا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے آپریشن شعبان میں “مزید کامیابیوں” پر سیکیورٹی فورسز کو سراہا۔ بیان میں ان کے حوالے سے کہا گیا کہ “مشترکہ آپریشن کے دوران پاک فوج، بلوچستان ایف سی اور پولیس کی قابل ذکر کامیابیاں قابل ستائش ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔





