2018 کے فیفا ورلڈ کپ میں فرانس اور ارجنٹائن کے درمیان راؤنڈ آف 16 کا مقابلہ ایک یادگار اور سنسنی خیز میچ تھا۔ اس میچ میں ارجنٹائن کے کپتان اور عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کو روکنا فرانسیسی ٹیم کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ اب فرانس کے سابق گول کیپر اور کپتان ہیوگو لوریس نے اس میچ سے متعلق ایک اہم حکمت عملی کا انکشاف کیا ہے جس نے میسی کو قابو کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
لوریس کے مطابق، فرانس کے کوچ ڈیڈیئر دیشامپ نے میچ سے قبل اپنے مڈفیلڈر این گولو کانٹے کو واضح ہدایات دی تھیں کہ وہ میسی کو ہر قیمت پر روکے۔ دیشامپ نے کانٹے سے کہا تھا کہ “میسی کو فالو کرو، اس کا پیچھا کرو، اور اسے سانس لینے کا موقع نہ دو۔” یہ حکم کانٹے کی غیر معمولی توانائی، دفاعی صلاحیتوں اور میدان میں ہر جگہ موجود رہنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا گیا تھا، تاکہ میسی کو گیند پر زیادہ دیر قابو پانے اور خطرناک حملے کرنے سے روکا جا سکے۔
این گولو کانٹے نے دیشامپ کے اس حکم پر بخوبی عمل کیا اور پورے میچ میں میسی کے پیچھے سائے کی طرح لگے رہے۔ اگرچہ میسی نے ایک اسسٹ فراہم کیا، لیکن کانٹے کی مسلسل موجودگی اور دباؤ نے انہیں اپنی معمول کی تخلیقی اور جارحانہ کارکردگی دکھانے سے روکے رکھا۔ فرانس نے یہ سنسنی خیز میچ 4-3 سے جیتا اور بالآخر ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ لوریس کا یہ انکشاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح ایک کھلاڑی کو ایک خاص حکمت عملی کے تحت دنیا کے بہترین فٹبالر کو روکنے کے لیے استعمال کیا گیا، جو ٹیم کی کامیابی میں ایک اہم عنصر ثابت ہوا۔




