اسلام آباد: ایک اہم فیصلے میں، وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے ایک سرکاری افسر پر اپنی خاتون ساتھی کو خواجہ سرا سے تشبیہ دینے پر 5 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف حکومتی عزم اور صنفی مساوات کے فروغ کا مظہر ہے۔
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی فرد کو اس کی جنس، شناخت یا کسی بھی دیگر بنیاد پر تضحیک کا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ متاثرہ خاتون نے شکایت درج کرائی تھی کہ ان کے ساتھی افسر نے انہیں خواجہ سرا کہہ کر ان کی توہین کی اور انہیں ذہنی اذیت پہنچائی۔ محتسب نے تمام شواہد اور گواہیوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا، جس میں افسر کو نہ صرف جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا بلکہ مستقبل میں ایسے رویوں سے باز رہنے کی بھی تنبیہ کی گئی۔
اس فیصلے کو کام کی جگہوں پر خواتین کے تحفظ اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف سرکاری اداروں بلکہ نجی شعبے میں بھی ملازمین کو ہراسانی سے بچانے اور ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے اور توہین آمیز رویوں کی حوصلہ شکنی میں مددگار ثابت ہوں گے، جس سے ایک زیادہ باوقار اور احترام پر مبنی کام کا ماحول تشکیل پائے گا۔



