کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب، کچرے کے بڑھتے ہوئے ڈھیروں کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ تاہم، یہ کچرا صرف ایک ماحولیاتی بوجھ نہیں بلکہ ایک ارب 20 کروڑ روپے کی ایک وسیع معیشت کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے جسے حکومتی سطح پر مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف شہر کی صفائی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ایک بڑے معاشی موقع کو بھی ضائع کر رہی ہے۔
حیرت انگیز طور پر، شہر میں غیر رسمی کچرا چننے والے (informal recyclers) پہلے ہی اس کچرے کو معاشی قدر میں تبدیل کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ افراد، جو اکثر انتہائی مشکل حالات میں کام کرتے ہیں، پلاسٹک، دھات اور دیگر قابلِ استعمال اشیاء کو جمع کر کے انہیں دوبارہ استعمال کے قابل بناتے ہیں، اس طرح ایک خاموش معیشت کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کی یہ کاوشیں شہر کے کچرے کے انتظام میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن انہیں کبھی بھی باقاعدہ کچرا انتظام کے منصوبوں کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔
اس عدم شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ شہر ایک قیمتی انسانی وسائل اور ایک خودکار نظام سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہے جو پہلے ہی فعال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان غیر رسمی کچرا چننے والوں کو باقاعدہ کچرا انتظام کے نظام میں شامل کر لیا جائے، انہیں تربیت دی جائے اور مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو کراچی نہ صرف صفائی کے مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ایک ارب 20 کروڑ روپے کی اس معیشت کو بھی باضابطہ طور پر فروغ دے سکتا ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور شہر کی مجموعی معیشت کو تقویت ملے گی۔ یہ وقت ہے کہ اس نظر انداز شدہ معاشی موقع کو پہچانا جائے اور اسے شہر کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے۔







