امریکی ریاست ٹیکساس کے وسطی علاقوں میں مسلسل اور شدید بارشوں کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق، اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں دیگر کو سیلابی پانی سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ گورنر گریگ ایبٹ نے خبردار کیا ہے کہ یہ بارشیں ریکارڈ توڑ سکتی ہیں اور ان کے باعث ہونے والی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔
ہِل کنٹری ریجن میں کئی کمیونٹیز سیلاب کی زد میں آئی ہیں، جہاں گھروں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مقامی انتظامیہ سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے سرگرم ہے۔ گورنر گریگ ایبٹ نے صورتحال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاری بارشوں کا سلسلہ غیر معمولی ہے اور یہ ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے، جس سے ریاست کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہے اور مواصلاتی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین موسمیات نے مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں اور صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا کام سیلابی پانی اترنے کے بعد شروع کیا جائے گا۔

