کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی تازہ ترین پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے اور واشنگٹن پر ‘میکارتھی ازم’ کو دوبارہ زندہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے ان پابندیوں کو کیوبا کے خلاف امریکی جارحیت کا حصہ قرار دیا۔
صدر ڈیاز کینیل نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی یہ پالیسیاں سرد جنگ کے دور کی یاد دلاتی ہیں جب کمیونزم کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر مہم چلائی گئی تھی جسے ‘میکارتھی ازم’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایک بار پھر اسی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے تاکہ کیوبا کو بدنام کیا جا سکے اور اس پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی حمایت یافتہ انتہا پسند دائیں بازو کی قوتیں ‘انتہا پسند بائیں بازو’ کے بیانیے کو استعمال کر رہی ہیں تاکہ کیوبا کے خلاف اپنی جارحیت کو جواز فراہم کر سکیں۔ صدر کینیل نے زور دیا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد کیوبا کی خودمختاری کو کمزور کرنا اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے ان اقدامات کا نوٹس لے۔
