غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینی کئی سالوں سے جنگ، بے گھری اور سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں، جب اسرائیل میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو غزہ کے مکینوں کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا ان انتخابات سے ان کے مستقبل پر کوئی اثر پڑے گا یا ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی آئے گی؟
تاریخی طور پر، غزہ کے فلسطینیوں نے اسرائیلی انتخابات کے نتائج سے اپنی صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں دیکھی ہے۔ چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں آئے، غزہ پر عائد پابندیاں اور اسرائیلی پالیسیاں اکثر و بیشتر یکساں رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر غزہ کے باشندے ان انتخابات کو اپنے لیے بے معنی سمجھتے ہیں اور ان سے کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے۔
جنگ کی تباہ کاریوں، نقل مکانی کے دکھ اور روزمرہ کی زندگی پر عائد سخت پابندیوں کے بعد، غزہ کے فلسطینیوں میں یہ احساس گہرا ہو چکا ہے کہ ان کے مقدر کا فیصلہ اسرائیلی انتخابی نتائج سے نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی مداخلت اور ایک پائیدار امن معاہدے سے ہی ممکن ہے۔ فی الحال، ان کی امیدیں کسی بھی انتخابی تبدیلی سے وابستہ نہیں ہیں۔





