برازیل کے بائیں بازو کے ایک سرگرم اور تجربہ کار رہنما، لوئز اناسیو لولا دا سلوا، جو عام طور پر لولا کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے چوتھی بار ملک کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ ان کی یہ کامیابی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور عالمی سطح پر بھی برازیل کے کردار پر نظریں مرکوز ہیں۔ لولا کی یہ واپسی برازیل کی سیاست میں ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے۔
لولا کا سیاسی سفر انتہائی غیر معمولی رہا ہے۔ ایک سابق فیکٹری ورکر سے لے کر ملک کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچنے کا ان کا سفر کئی اتار چڑھاؤ سے بھرا ہے۔ انہیں ماضی میں بدعنوانی کے الزامات پر جیل بھی جانا پڑا تھا، تاہم بعد ازاں ان کے خلاف تمام الزامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا، جس نے ان کی سیاسی واپسی کی راہ ہموار کی۔ ان کی یہ کہانی محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے امید کی ایک کرن سمجھی جاتی ہے۔
اپنے سیاسی کیریئر کے دوران، لولا نے عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت بنائی ہے۔ وہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ مختلف اوقات میں اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ ان کی دوبارہ صدارت برازیل کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ ملک کو ایک نئے سمت میں لے جانے کی کوشش کریں گے، خاص طور پر ماحولیاتی تحفظ اور سماجی مساوات کے شعبوں میں۔






