ٹرمپ نے امریکی امیگریشن کو کیسے بدلا: پانچ اہم پہلو

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت نے امریکہ کی امیگریشن پالیسیوں پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں۔ “بند سرحد” اور “بڑے پیمانے پر ملک بدری” کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آنے والے ٹرمپ نے امیگریشن کو اپنی سیاست کا مرکزی ستون بنائے رکھا۔ ان کی پالیسیوں نے نہ صرف قانونی اور غیر قانونی امیگریشن کے طریقہ کار کو متاثر کیا بلکہ امریکہ کی عالمی امیج اور انسانی حقوق کے حوالے سے اس کے موقف پر بھی سوالات اٹھائے۔ ذیل میں ہم ان پانچ اہم طریقوں کا جائزہ لیں گے جن سے ٹرمپ نے امریکی امیگریشن کے منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا۔

پہلا اہم پہلو سرحدوں کی سخت نگرانی اور دیوار کی تعمیر کا عزم تھا۔ ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی نعرہ بنایا اور اس پر عمل درآمد کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی، “میکسیکو میں ٹھہرو” (Remain in Mexico) جیسی پالیسیاں متعارف کروائیں، جس کے تحت پناہ کے متلاشی افراد کو امریکہ میں داخل ہونے کے بجائے میکسیکو میں اپنے کیسز کی سماعت کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ دوسرا بڑا اثر “زیرو ٹالرنس” پالیسی اور خاندانوں کی علیحدگی کی صورت میں سامنے آیا۔ اس پالیسی کے تحت غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے والدین کو ان کے بچوں سے الگ کر دیا گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی اور اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

تیسرا اہم اقدام کئی مسلم اکثریتی ممالک پر سفری پابندی کا نفاذ تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے “دہشت گردی کے خطرے” کا حوالہ دیتے ہوئے کئی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی، جسے ناقدین نے “مسلم بین” قرار دیا۔ یہ پالیسی کئی قانونی چیلنجز کے بعد سپریم کورٹ سے منظور ہوئی، لیکن اس نے امریکہ کی شمولیت پسندانہ اقدار پر سوال اٹھائے۔ چوتھا بڑا اثر DACA (Deferred Action for Childhood Arrivals) پروگرام کو چیلنج کرنا تھا۔ یہ پروگرام ان نوجوانوں کو ملک بدری سے تحفظ فراہم کرتا تھا جو بچپن میں غیر قانونی طور پر امریکہ لائے گئے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس پروگرام کو ختم کرنے کی کوشش کی، جس سے ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا۔

پانچواں اور اہم پہلو پناہ گزینوں کی تعداد میں نمایاں کمی اور پناہ کی درخواستوں پر سختیاں تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی سالانہ تعداد کو تاریخی کم ترین سطح پر لے آیا اور پناہ کے حصول کے لیے نئے اور سخت قواعد و ضوابط متعارف کروائے۔ ان اقدامات نے نہ صرف امریکہ کی پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے کی دیرینہ روایت کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو بھی کمزور کیا۔ مجموعی طور پر، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں نے امریکہ کے امیگریشن نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے، اور ان کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

  • Related Posts

    ایران میں اہم سفارتی سرگرمیاں: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مشترکہ دورے متوقع، امریکہ اور اسرائیل کے جنگی منصوبوں کی اطلاعات

    تہران میں ایک غیر معمولی مشترکہ دورے کی توقع ہے جس میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود شامل ہوں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو…

    لولا نے برازیل کی صدارت میں بولسونارو کو شکست دے کر لاطینی امریکہ کے دائیں بازو کو بڑا دھچکا پہنچایا

    برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے ملک کی صدارت کے لیے ہونے والے انتخابات میں فلیویو بولسونارو کو شکست دے دی ہے۔ فلیویو بولسونارو دائیں بازو کے…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔