امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت ایک بار پھر 4 ڈالر فی گیلن کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران بحران میں شدت ہے۔ یہ صورتحال امریکی صارفین کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے جو حالیہ مہینوں میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
صرف ایک ماہ قبل، امریکی ڈرائیوروں کو پمپ پر کچھ راحت ملی تھی جب امریکہ اور ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ارادے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے سے تیل کی عالمی سپلائی میں بہتری کی امید تھی، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی آئی تھی اور صارفین نے سستی ایندھن کا لطف اٹھایا تھا۔
تاہم، اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ ایران بحران کے دوبارہ شدت اختیار کرنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے اثرات زائل ہونے کے بعد، تیل کی عالمی منڈی میں غیر یقینی کی صورتحال بڑھ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے، امریکی صارفین کو ایک بار پھر بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔






