واشنگٹن – عالمی ثالثوں کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز سامنے آنے کے بعد عالمی منڈیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس تجویز کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی گنجائش پیدا کرنا اور ایک عبوری معاہدے کو بحال کرنا ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی سرمایہ کاروں میں امید کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایک سینئر ایرانی ذریعے نے ایک عالمی وائر سروس کو بتایا کہ اس تجویز کا بنیادی مقصد مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ کئی دنوں سے جاری تنازعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد یہ اقدام دونوں فریقین کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے تاکہ وہ بات چیت کی میز پر واپس آ سکیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب رہتی ہے تو اس سے نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ عالمی برادری بھی اس پیش رفت کو مثبت نظروں سے دیکھ رہی ہے اور امید کر رہی ہے کہ یہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بنے گی۔






