ای پی بی ڈی (Economic Policy and Budgetary Development) نے اپنا شیڈو بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں ملک کی معاشی ترقی اور دفاعی استحکام کے لیے اہم اور جامع تجاویز شامل ہیں۔ اس بجٹ میں برآمدات کو موجودہ سطح سے بڑھا کر 80 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک انتہائی پرجوش اور ضروری ہدف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں 35 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ ای پی بی ڈی کے سربراہ ایس ایم تنویر نے اس موقع پر زور دیا کہ یہ شیڈو بجٹ محض تجاویز کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل، مربوط اور قابلِ عمل متبادل معاشی فریم ورک ہے جو ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
برآمدات میں 80 ارب ڈالر کے ہدف کے حصول کے لیے شیڈو بجٹ میں کئی جامع حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ان میں ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ، نئے بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش، برآمد کنندگان کے لیے مراعاتی پیکجز، اور کاروباری آسانیوں کو بہتر بنانا شامل ہیں۔ ای پی بی ڈی کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور معاشی نمو کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے گا۔ یہ فریم ورک مہنگائی پر قابو پانے، غربت میں کمی لانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بھی ٹھوس تجاویز پیش کرتا ہے، جس کا مقصد ایک مستحکم اور خوشحال معاشی ماحول فراہم کرنا ہے۔
دفاعی بجٹ میں 35 فیصد اضافے کی تجویز کو قومی سلامتی کے تقاضوں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ شیڈو بجٹ میں دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے، ٹیکنالوجی کے حصول اور افواج کی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ملک کی سرحدوں کا مؤثر دفاع یقینی بنایا جا سکے۔ ایس ایم تنویر کے مطابق، یہ بجٹ صرف معاشی اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک جامع روڈ میپ ہے جو معیشت، دفاع، سماجی بہبود اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ایک ساتھ لے کر چلتا ہے تاکہ ملک مجموعی طور پر ترقی کر سکے۔ اس شیڈو بجٹ کا مقصد حکومت کو ایک متبادل اور قابلِ عمل راستہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ موجودہ معاشی بحران سے نکل کر پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

