ملک کے مختلف شہروں میں منافع خوروں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں کھانے پینے کی اشیا سمیت دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ صورتحال عام آدمی کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور حکومتی رٹ کی کمزوری کے باعث منافع خور مافیا بے لگام ہو چکا ہے اور من مانی قیمتیں وصول کر رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، لاہور میں روٹی کی قیمت میں 3 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ایک روٹی کی قیمت 15 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ سرکاری نرخنامے کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اسی طرح، ملک کے دیگر شہروں میں بھی سبزیوں، پھلوں، دالوں، گوشت اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کیا جا رہا ہے، جہاں دکاندار اور تھوک فروش اپنی مرضی کے نرخ وصول کر کے صارفین کو لوٹ رہے ہیں۔
منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا یہ سلسلہ ملک کی معیشت اور عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث یہ مافیا مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، اور عوام کو مہنگائی کے اس بوجھ سے نجات دلانے کے لیے ٹھوس پالیسیاں اپنائی جائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔



