لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں چیک ڈس آنر کیس کے ایک ملزم کی پولیس حراست میں ہلاکت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق، ملزم کی موت طبی وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے اور اس حوالے سے میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ پولیس کی کارکردگی اور حراست میں موجود افراد کی حفاظت پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق، ملزم کو چیک ڈس آنر کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تھانہ ڈیفنس سی کی حوالات میں بند تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے حوالات میں طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی جس پر اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ ملزم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے اور اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اس واقعے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ سی سی پی او لاہور نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی پولیس اہلکار کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ملزم کے لواحقین نے پولیس پر تشدد کا الزام عائد کیا ہے اور واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر پولیس حراست میں ہونے والی اموات کے معاملے کو اجاگر کر رہا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔



