سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں شمالی امریکی پڑوسیوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک بڑی کشیدگی کا باعث بن گیا ہے، جس نے عالمی اقتصادی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ نئے محصولات، جو کہ ایک غیر معمولی شرح پر عائد کیے گئے ہیں، امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں ایک نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی مختلف تجارتی معاملات، خصوصاً اسٹیل اور ایلومینیم پر، اختلافات موجود تھے، اور اس اقدام سے ان میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس اقدام سے کینیڈین صنعتوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ملازمتوں کا نقصان اور اقتصادی سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، امریکی صارفین کو بھی مہنگی درآمدی اشیاء کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ان کی قوت خرید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدوں اور باہمی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس سے علاقائی استحکام بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔






