اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے ہزاروں جوہری سینٹری فیوجز کو ایک پہاڑ کے اندر انتہائی گہرائی میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ نئی تنصیب یا منتقل شدہ حصہ زمین کی سطح سے تقریباً 300 سے 450 فٹ نیچے واقع ہے، جو اسے کسی بھی ممکنہ حملے سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔
جوہری سینٹری فیوجز کو زیر زمین گہرائی میں منتقل کرنے کا یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام کو مزید مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس طرح کی زیر زمین تنصیبات کو فضائی حملوں سے بچانا انتہائی مشکل ہوتا ہے، جس سے اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک کے لیے فوجی کارروائی کے آپشنز مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) اور مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کی شفافیت اور اس کی توسیع پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، اور اس تازہ پیش رفت سے ان کی تشویش میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہے۔ تاہم، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کا اصرار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سینٹری فیوجز کی یہ منتقلی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور جوہری معاہدے کی بحالی کی امیدوں کو مزید دھچکا پہنچا سکتی ہے۔ عالمی برادری اب اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا یہ اقدام ایران کے جوہری عزائم میں ایک نئی پیش رفت ہے یا موجودہ تنصیبات کی محض ایک مضبوطی۔





