مشہور ہالی ووڈ اداکارہ ریبل ولسن کو ہتک عزت کے ایک مقدمے میں بری کر دیا گیا ہے۔ سڈنی کی ایک عدالت نے انہیں تمام الزامات سے کلیئر قرار دے دیا، جس کے بعد وہ ایک بڑی قانونی پریشانی سے نکل آئی ہیں۔ یہ مقدمہ نوجوان آسٹریلوی اداکارہ شارلٹ میک انیس نے دائر کیا تھا۔
شارلٹ میک انیس نے ریبل ولسن پر اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ہتک عزت کا الزام عائد کیا تھا۔ میک انیس، جو خود بھی ایک ابھرتی ہوئی آسٹریلوی اداکارہ ہیں، نے دعویٰ کیا تھا کہ ولسن کے بیانات نے ان کے کیریئر کو متاثر کیا ہے۔ یہ مقدمہ کافی عرصے سے زیر سماعت تھا اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا، جہاں دونوں فریقین کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے۔
تاہم، سڈنی کی عدالت نے تمام شواہد اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد ریبل ولسن کے حق میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ولسن پر لگائے گئے ہتک عزت کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے، جس کے بعد انہیں مکمل طور پر بری کر دیا گیا۔ اس فیصلے سے ریبل ولسن کو ایک بڑی قانونی پریشانی سے نجات مل گئی ہے اور ان کے مداحوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔




