پاکستان میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو ملک کی صحت عامہ کی کوششوں کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ یہ کمی پولیو کے خاتمے کے لیے جاری قومی مہمات اور صحت کے کارکنوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں نے بھی اس پیش رفت کو سراہا ہے، جو پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بننے کے ہدف کے قریب لا رہی ہے۔
اس کامیابی کی بنیادی وجہ ملک بھر میں چلائی جانے والی وسیع پیمانے پر حفاظتی ٹیکوں کی مہمات ہیں۔ ان مہمات میں لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں، جس میں صحت کے رضاکاروں اور فرنٹ لائن ورکرز نے انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ حکومت پاکستان نے بھی پولیو کے خاتمے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے اور اس کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کیے ہیں۔ تاہم، کچھ علاقوں میں ویکسین سے متعلق غلط فہمیاں اور سیکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مزید چوکسی اور عوام کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے میں کوئی کوتاہی نہ برتیں تاکہ اس موذی مرض کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنائے گا بلکہ ملک کی عالمی ساکھ کو بھی بہتر کرے گا۔ پولیو سے پاک پاکستان کا خواب اب حقیقت کے قریب تر نظر آتا ہے، لیکن اس کے لیے اجتماعی کوششوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔


